مارک بوئل ایک مصنف، مقرر اور سرگرم کارکن ہیں جو ایک جرات مندانہ سوال پوچھنے کے لیے جانے جاتے ہیں: اگر ہم اپنی زندگی سے پیسے کو نکال دیں تو کیا ہوگا؟ مارک نے اس خیال پر محض بحث کرنے کے بجائے اسے عملی طور پر جی کر دکھایا۔ ان کی زندگی کا کام یہ دریافت کرنا ہے کہ کم وسائل میں رہنے، برادری پر زیادہ انحصار کرنے، اور فطرت سے دوبارہ جڑنے کا کیا مطلب ہے۔
مارک کا یہ سفر معاشیات اور سیاسیات کی تعلیم کے بعد شروع ہوا، جب وہ اس نظام سے مایوس ہو گئے جو منافع کو لوگوں اور کرہ ارض سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ نظام کو اندر سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، انہوں نے تقریباً مکمل طور پر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ 2008 میں انہوں نے بغیر پیسے کے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا — نہ بینک اکاؤنٹ، نہ آمدنی، نہ خرید و فروخت — بلکہ تبادلے، تحائف، خوراک اگانے اور برادری کی مدد پر انحصار کیا۔
تین سال تک مارک برطانیہ میں مکمل طور پر بغیر پیسے کے رہے۔ انہوں نے اپنی خوراک خود اگائی، جنگلی خوراک تلاش کی، پھینکی ہوئی اشیاء سے کام چلایا، ایک ادھار کاروان استعمال کیا، اور نیک نیتی اور باہمی ہنر کی بنیاد پر گزارا کیا۔ جو بات انہیں دریافت ہوئی اس نے کئی لوگوں کو حیران کر دیا: پیسہ ختم کرنے سے زندگی مشکل نہیں بلکہ زیادہ بھرپور ہو گئی۔ انہیں گہرے رشتے، مضبوط برادری، اور مقصد کا نیا احساس ملا۔
یہ تجربہ ان کی پہلی کتاب The Moneyless Man: A Year of Freeconomic Living کی بنیاد بنا۔ یہ کتاب جزوی طور پر خودنوشت اور جزوی طور پر سماجی تنقید ہے، جو پیسے کے بغیر زندگی گزارنے کی عملی حقیقتیں بیان کرتی ہے اور قارئین کو اپنے پیسے سے تعلق پر سوال اٹھانے کی دعوت دیتی ہے۔
https://www.markboyle.net/books/
پیسے کے محدود استعمال کی طرف واپسی کے بعد بھی مارک نے “عام” زندگی کی طرف رجوع نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ سادگی کی طرف بڑھتے رہے۔ بعد میں وہ ایک چھوٹے جنگلاتی گھر میں بجلی، بہتے پانی اور جدید سہولیات کے بغیر آف گرڈ رہنے لگے۔ ان کی زندگی کا یہ باب کتاب The Way Home: Tales from a Life Without Technology میں قلم بند ہے، جو سست روی اور فطرت کی تال میں زندگی گزارنے کے بارے میں ایک فکر انگیز اور نہایت ذاتی کتاب ہے۔
https://www.markboyle.net/the-way-home/
مارک The Freeconomy Community کے بانی بھی ہیں، جو ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو لوگوں کو بغیر پیسے کے ہنر، وسائل اور وقت بانٹنے کی ترغیب دیتا ہے۔ خیال سادہ ہے: بہت سی چیزیں جن کی ہمیں ضرورت ہے پہلے ہی ہماری برادریوں میں موجود ہیں — بس انہیں بانٹنے کی ضرورت ہے۔
مارک بوئل کے کام کو اثر انگیز بنانے والی چیز ان کی دیانتداری ہے۔ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ بغیر پیسے کی زندگی ہر کسی کے لیے جواب ہے۔ اس کے بجائے وہ لوگوں کو حوصلہ دیتے ہیں کہ جو ممکن اور بامعنی لگے وہ اپنائیں — چاہے وہ تھوڑی خوراک اگانا ہو، پڑوسیوں کے ساتھ ہنر بانٹنا ہو، یا یہ سوال کرنا ہو کہ حقیقی معنوں میں کتنا کافی ہے۔
ان کی تحریر فکر انگیز، زمین سے جڑی اور اکثر چیلنجنگ ہوتی ہے، مگر ہمیشہ انسانی رہتی ہے۔ مارک ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آج کے کئی بحرانوں کا حل مزید ٹیکنالوجی یا استعمال میں نہیں بلکہ زمین، برادری اور خود اپنے آپ سے دوبارہ جڑنے میں پوشیدہ ہے۔
آپ مارک کی تحریریں، گفتگو اور منصوبے ان کی سرکاری ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.markboyle.net/
مارک بوئل کی زندگی ایک خاموش مگر طاقتور یاد دہانی پیش کرتی ہے: اچھی زندگی کے لیے مہنگا، تیز رفتار یا پیچیدہ ہونا ضروری نہیں۔ کبھی کبھار اچھی زندگی گزارنے کا آغاز چھوڑ دینے سے ہوتا ہے۔
ماخذ
• مارک بوئل – سرکاری ویب سائٹ: https://www.markboyle.net/
• مارک بوئل – کتابیں: https://www.markboyle.net/books/
• The Moneyless Man: https://www.markboyle.net/books/the-moneyless-man/
• The Way Home: https://www.markboyle.net/the-way-home/
• The Freeconomy Community: https://www.freeconomy.org/
• مارک بوئل – ویکیپیڈیا: https://en.wikipedia.org/wiki/Mark_Boyle_(moneyless_man)
مصنف کا حوالہ
تحریر: اوپن اے آئی لینگویج ماڈل